فيديو لشجار في البرلمان الجزائري؟ إليكم الحقيقة FactCheck
تداولت صفحات وحسابات على مواقع التواصل الاجتماعي فيديو قيل إنّه يُظهر شجاراً وتضارباً في برلمان الجزائر وزعمت صفحات أخرى أنّه مصوّر في المغرب. لكن هذا الادّعاء غير صحيح. فالمقطع مصوّر في الحقيقة في محكمة لاهور العليا الشهر الماضي، خلال انتخابات نقابة المحامين في باكستان، وفقاً لما توصلت اليه خدمة تقصي صحة الأخبار في وكالة "فرانس برس".
يُظهر الفيديو شجاراً بين أشخاص عدة داخل قاعة. وجاء في التعليق المرفق أنّه لنائب جزائريّ يلكم زميلته في البرلمان.

وزعمت المنشورات أن الحادث جاء بعد "مطالبة البرلمانية بشرح سبب عدم استفادة الشعب الجزائري من عائدات النفط والغاز في البلاد".
كذلك، انتشر المقطع في سياق مضلّل مشابه، مرفقاً بمزاعم أنه يُظهر شجاراً في البرلمان المغربي.

إلا أن هذه الادعاءات لا أساس لها من الصحة.
فيديو من باكستان
فقد أرشد التفتيش عن لقطات من الفيديو إلى مشاهد من زوايا عدة للشجار نفسه نشرتها مواقع وصفحات باكستانية عدة في 2 آذار/مارس 2026.
وجاء في التعليق المرفق أن المقطع يظهر اعتداء محامٍ بالضرب على زميلته خلال انتخابات نقابة المحامين في محكمة لاهور العليا في باكستان.
وقد أرشد التعمّق بالبحث إلى الفيديو المتداول منشوراً في حساب محامية باكستانية على تيك توك كتبت باللغة الأوردية (اللغة الرسمية في باكستان) عبارات إدانة ضد المحامي الذي تعرّض للمحامية.
تنزلی کا سفر کہنے کو تو یہ محض ایک تصویر ہے لیکن دراصل یہ وکالت کے پروفیشن کے زوال کی نشانی ہے ۔ تنزلی کی طرف سفر ہمیشہ آہستہ آہستہ اور غیر محسوس طریقے سے شروع ہوتا ہے ،لیکن پھر اس میں ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو اس کو یقین میں بدل دیتے ہیں کہ عزت سادات گنوائی جا چکی ۔ کبھی وکلاء کمیونٹی کی پہچان ملک میں رول آف لا اور جمہوریت کے ساتھ کھڑا ہونا تھی ۔ اور آج ایسا کیا ہو گیا کہ ہمیں اسویڈیو میں ہونیوالے ناخوشگوار واقعہ کا سامنا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں تو خواتین کی بہت عزت تھی روایات تھیں، اس وکیل صاحب کی پرورش نہ جانے کس نے کی ہے جس نے اس کو یہ بھی نہیں سکھایا کہ اپ جتنے بھی غصہ میں ہوں یا جذبات کے زیر اثر ہوں ہمیں پھر بھی اپنی مذہبی اور معاشرتی روایات کا بہر حال پاس رکھنا ہوتا ہے ۔ کبھی وکالت کے پروفیش میں اچھے گھرانوں کے لوگ آتے تھے جن کو اپنے حسب نسب کا خیال ہوتا تھا وہ سمجھتے تھے کہ اگر انہوں نے کوئی غلط حرکت کی تو خاندان کے نام پہ حرف آئے گا ،بدقسمتی سے آج ہر ٹوم ،ڈک اور ہیری اس نوبل پروفیشن میں گھس آئے ہیں اور اپنی ان حرکتوں سے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بنے ہوئے ہیں ۔ ان کالی بھیڑوں کا جب تک احتساب نہیں ہوگا مزید ایسے واقعات مستقبل قریب میں ضرور رونما ہوں گے ،لہذا اسکا حل یہی کہ اس موصوف کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ جنہوں نے اس کو سزا دینی ہے وہی تو اس کے سرپرست ہیں۔
♬ original sound - Adv Hina Rao
ونشرت مواقع باكستانيّة أخباراً عن الحادثة والتدقيق في نتائج الانتخابات التي تسبّبت بالخلاف.
كذلك دانت نقابة المحامين في محكمة لاهور العليا، في بيان نشرته على موقع فيسبوك بتاريخ 5 آذار/مارس، "الفوضى التي حدثت في قاعة كياني يوم انتخابات النقابة في الثاني من آذار/مارس 2026."
وأضافت النقابة "أن الحزب المعارض كان يعلم أنه سيخسر بأغلبية واضحة، ورغم وجود تقاليد في نقابة المحامين تقضي بأن الخاسر يُكرّم الفائز بالورود، إلا أن هذه التقاليد العريقة انتُهكت، وتعرضت محامية للضرب".
خدمة تقصي صحة الأخبار باللغة العربية، وكالة فرانس برس
نبض